کھوٹے سکے


بغداد میں ایک نانبائی تھا، وہ بہت اچھے نان کلچے لگاتا تھا اور بڑی دور دور سے دنیا اس کے نان کلچے خریدنے کے لیے آتی تھی۔ کچھ لوگ بعض اوقات معاوضے کے طور پر اسے کھوٹا سکہ دے کر چلے جاتے جیسے یہاں ہمارے ہاں بھی ہوتے ہیں۔ وہ نانبائی کھوٹا سکہ لینے کے بعد اور اسے جانچنے اور آنچنے کے بعد اسے اپنے پیسوں والی صندوقچی میں ڈال لیتا تھا کبھی واپس نہیں کرتا تھا‘کسی کو آواز دے کر نہیں کہتا تھا کہ تم نے مجھے کھوٹا سکہ دیا ہے۔ بے ایمان آدمی ہو وغیرہ بلکہ محبّت سے وہ سکہ بھی رکھ لیتا تھا۔جب اس نانبائی کا آخری وقت آیا

تو اس نے پکار کر کہا‘اے اللہ تو اچھی طرح سے جانتا ہے کے میں تیرے بندوں سے کھوٹے سکے لے کر انھیں اعلیٰ درجے کے خوشبو دار گرم گرم صحتمند نان دیتا رہا اور وہ لے کر جاتے رہے۔ آج میں تیرے پاس جھوٹی اور کھوٹی عبادت لے کر آ رہا ہوں، وہ اس طرح سے نہیں ہے جیسے تو چاہتا ہے میری تجھ سے یہ درخواست ہے کہ جس طرح سے میں نے تیری مخلوق کو معاف کیا تو بھی مجھے معاف کر دے‘میرے پاس اصل عبادت نہیں ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے