ایک زخم کے بھرنے کیلئے ضروری ہےکہ اُس کو کُریدا نہ جائے


ایک زخم کے بھرنے کیلئے ضروری ہےکہ اُس کو کُریدا نہ جائے۔دنیا اور آخرت ایک دوسرے کی ضد اور نقیض ہیں اور علیحدہ علیحدہ راستے ہیں‘ جو دنیا سے محبت کرتا ہے وہ آخرت سے نفرت کرتا ہے اور دنیا اور آخرت مشرق و مغرب کی طرح ہیں‘ جتنا کوئی کسی کے قریب ہوتا ہے اتنا ہی دوسرے سے دورہوتا ہے۔

۔دنیا دوسری چیزوں سے غافل کر دیتی ہے‘ دنیا دار جب ایک چیز حاصل کر لیتا ہے تو اسے دوسری چیزکا حرص لاحق ہوجاتا ہےجو خودروئی سے کام لے گا وہ تباہ و برباد ہوگا اور جو دوسروں سے مشورہ لے گا وہ ان کی عقلوں میں .

توبہ کی امید پر گناہ کرنے والا بدترین ہے ۔٭ حسد کو اپنے قریب بھی نہ آنے دو . سخاوت کرنے سے ہی نعمت ملتی ہے ۔ خود پسندی اور تکبر بڑے گناہ ہیں ۔ اپنی غلطی پر یا غلط بات پر قائم رہنا ہی کم ظرفی ہے ۔ مومن کی نشانی یہ ہے کہ مصیبت کو ہنس کر قبول کرتا ہے ۔شریک ہوجائے گا

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے