ہم نے رکشہ کی بجائے تانگہ کرائے پر لیا اور اس پر سوار ہوگئے,مستنصر حسین تارڑ

” ہم نے رکشہ کی بجائے تانگہ کرائے پر لیا اور اس پر سوار ہوگئے اب بھی ہم ہر شے کو حیرت سے دیکھ رہے تھےاور پاگلوں کی طرح شور مچارہے تھے۔۔۔۔۔۔۔ہال سڑک اور میکلوڈ سڑک کے چوک میں ٹریفک بند تھی کوئی بہت بڑا جلوس تھا ۔ ہمارا تانگہ بھی رک گیاجلوس کے شرکاء جو نعرے لگا رہے تھے وہ ناصر نے سنے توبھڑک اٹھا ، “اوئے یہ سارے پاگل خانے ہیں ہم نہیں“ ان کو قدر ہی نہیں وطن کی آزادی کی۔۔۔۔۔اوئے ان کو کوئی سمجھائے کہ یہ بڑی نعمت ہے اپنا گھر اپنا وطن،،۔
اس بات کو کئی سال ہوگئے ہیں ۔۔۔۔۔ چند روز پیشتر ناصرسے پھر ملاقات ہوئی کہنے لگایار کہیں چلنا چاہیے۔ میں نے پوچھا کہاں؟ کہنے لگا کہ کہیں بھی پاکستان سے باہر۔۔۔۔۔لیکن وجہ؟۔۔۔۔۔سنو اس نے میرے کندھے پر ہاتھ رکھ کرکہا، گھر کی قدر و قیمت گھر سے باہر جاکر ہوتی ہے۔۔۔۔۔۔اردگرد ماحول ایسا بن رہا ہے کہ میں بھی کچھ کچھ متاثر ہورہا ہوں کہ ہم وطن سے باہر جائیں اور دھکّے کھا کر واپس آئیں پھر ہمیں پتہ چلے کہ آزادی کیا چیز ہے اور وطن کیا شے ہے؟ کیا وطن اور آزادی کی قدر و قیمت جاننے کے لیے دھکّے کھانا ضروری ہیں؟

ہاں وہ سر ہلا کربولا اگر آپ عقلمند ہوں تو دھکّوں کے بغیر بھی سمجھ جاتے ہیں ورنہ دھکّے بہت ضروری ہیں……!!”

( مستنصر حسین تارڑ ۔ "چِک چُک” سے اقتباس )

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے